بوڑھے والدین انصاف کو تلاش کرتے کرتے تین سال سے زائد عرصہ گزار چکے تا حال انصاف سے کوسوں دور

0
224

راولاکوٹ ( بیورو رپورٹ ) 23سالہ پولیس کانسٹیبل شہبازاحمدکو مبینہ طور پرقتل ہوئے تقریبا سارھے تین سال گزرگئے بوڑھے والدین بیٹے کے قتل بارے انصاف کے لیئے آس لگائے بیٹھے ہں مگر لواحقین کو آج تلک انصاف نہ مل سکاتفصیلات کے مطابق نوجوان 23سالہ پولیس کانسٹیبل شہباز احمد ماڈل تھانہ سٹی راولاکوٹ میں ملازم تھا, دوران ملازمت اپنے رہائشی کمرے سے مردہ حالت میں پایا گیا,ورثاء کا کہنا ہے کہ شہباز احمد کو قتل کیا گیا ہے جسے پولیس ماننے کو تیار نہیں ساڑھے تین سال سے انصاف کے متلاشی ورثاء نے عدالت کا رُخ کیا تو عدالت نے FIRدرج کرنے کے احکامات جاری کیئے جس پر نامزد ملزمان نے فوری طور پر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کر دی اور اپیل خارج ہونے پر نامزد ملزمان نے عبوری ضمانت لے لی۔ورثاء کا کہنا ہے کہ حکومت وقت چیف جسٹس صاحبان عدلیہ کی زیر نگرانی غیر جانبدارانہ JIT تشکیل دیں ۔بات کرتے ہوئے شہباز کے بھائی اعجاز احمد نے کہا کہ آج سے ساڑھے تین سال قبل میرے بھائی کو ساتھی پولیس اہلکاران نے قتل کر دیا تھا جس کے لیئے متعدد درخاستیں دیں پولیس نے FIRدرج نہیں کی اب ساڑھے تین سال بعد عدالت کے حکم پر FIRتو درج ہو گئی لیکن کوئی تفتیشی عمل نہ ہو سکا اور نہ ہی نامزد ملزمان کو حوالات میں بند کیا گیا لہذا اس پولیس سے ہمیں انصاف کی قطعاً کوئی امید نہ رہی لہذا حکومت وقت سے اپیل ہے کہ عدلیہ کی زیر نگرانی غیر جانبدارانہ JIT تشکیل دی جائے جو غیر جانبدارانہ طور پر تفتیش کر کی ہمیں انصاف مہیا کر سکے ۔
ورثا ء کا کہنا ہے کہ حکومت وقت چیف جسٹس صاحبان عدلیہ کی زیر نگرانی غیر جانبدارانہ JIT تشکیل دیں جو مختلف محکموں سے اچھے اوصاف کے لوگوں پر مشتمل ہو ہمارا موقف بھی سنے اور ملزمان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ہمیں انصاف فراہم کر ے بوڑھے والدین ، بہینیں اور بھائی آج تک انصاف کی تلاش میں کرب بھرے شب وروز گزار رہے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here