کشمیر کے ممتاز سیاستدان ، بانی آزادکشمیر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے صاحبزادے ، جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے سربراہ سردار خالدابراہیم خان (مرحوم ) کی یاد میں منعقدہ مرکزی تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر اور مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر خان اور دیگر سیاسی قائدین نے کہا کہ سردار خالد ابراہیم خان کشمیر کے ایک عظیم سیاستدان تھے ۔ وہ ہر قسم کی آلائشوں سے پاک اور اپنے فیصلوں پر قائم رہنے والا ، نڈر ، بے با ک ، سیاست دان تھا ان جیسے سیاستدان کسی خطہ میں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں

0
234
راولاکوٹ (بیورو رپورٹ) کشمیر کے ممتاز سیاستدان ، بانی آزادکشمیر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے صاحبزادے ، جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے سربراہ سردار خالدابراہیم خان (مرحوم ) کی یاد میں منعقدہ مرکزی تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر اور مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر خان اور دیگر سیاسی قائدین نے کہا کہ سردار خالد ابراہیم خان کشمیر کے ایک عظیم سیاستدان تھے ۔ وہ ہر قسم کی آلائشوں سے پاک اور اپنے فیصلوں پر قائم رہنے والا ، نڈر ، بے با ک ، سیاست دان تھا ان جیسے سیاستدان کسی خطہ میں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ انہو ں نے آئین کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، اداروں کے تقدس اور میرٹ کو قائم رکھنے کیلئے طویل ترین جدوجہد کی ۔ان زعماء نے کہا کہ وہ نہ صر ف سیاسی لیڈر تھے بلکہ ایک ادارہ تھے جہاں سے سیاسی کارکنوں کی تربیت کی جاتی تھی ۔ان کا ہمیشہ منفرد کردار رہا ہے ان کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کر کے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے تھے ۔ صابر شہید اسٹیڈیم راولاکوٹ میں منعقدہ اس مرکزی تعزیتی ریفرنس کی صدارت سردار جاوید ابراہیم خان نے کی ۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر مہمان خصوصی تھے ۔ جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے مرکز ی رہنما اور ڈسٹرکٹ بار پونچھ کے صدر سردار جاوید نثار ایڈووکیٹ نے اسٹیج کنڈیکٹ کیا ۔جبکہ کچھ وقت کیلئے ضلعی صدر جے کے پی پی سردار سیاب شریف نے بھی اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے تعزیتی ریفرنس میں پونچھ ڈوثیرن کے علاوہ دیگر اضلاع سے بھی سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی اس تعزیتی ریفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں ، مذہبی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کی بھرپور نمائندگی تھی ۔اس تعزیتی ریفرنس سے جن زعماء نے خطاب کیا ان میں چوہدری محمد یسین (اپوزیشن لیڈر ) ، چوہدری لطیف اکبر (صدر پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر ) ، سردار عبدالر شید ترابی (ممبر قانون ساز اسمبلی)،الحاج سردار محمد یعقوب خان (سابق صدر و سابق وزیراعظم)، سردار غلام صادق خان (سابق سپیکر)، ملک محمد نواز (سنیئر رہنما مسلم کانفرنس و ممبر قانون ساز اسمبلی)، ڈاکٹر نجیب نقی (وزیر حکومت )، سردار محمد صغیر چغتائی (ممبر اسمبلی )، سردار عامر الطاف (ممبر اسمبلی)، سردار محمد سوار خان (مرکزی رہنما پی ٹی آئی)،سردار محمد حسین خان ایڈووکیٹ (سابق وزیر )،سردار قیوم خان نیازی (سابق وزیر حکومت )،(ر) چیف جسٹس سردار محمد نواز خان (سابق صدر جے کے پی پی)، سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ (چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ )، سردار شمشاد حسین ایڈووکیٹ (سنیئر قانون دان )،جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے قائم مقام صدر شیخ فضل کریم ، سردار عبدالرزاق (سنہسہ کوٹلی) محترمہ نبیلہ ارشاد (مرکزی رہنما جے کے پی پی)،خان عبدالقیوم خان (مرکزی جنرل سیکرٹری جمعیت علماء جموں کشمیر )، حاجی بصری خان ، سردار ممتاز غنی (ر ) ڈی ای او ، چوہدری فاروق ، سردار نعیم نازاور صدرتقریب سردار جاوید ابراہیم خان قابل ذکر ہیں ۔ اس تقریب میں حکومت آزادکشمیر کی نمائندگی وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے اپنے ساتھیوں سردار عبدالخالق وصی ایڈووکیٹ (ممبر کشمیر کونسل )، سردار اعجاز یوسف (صدارتی مشیر)، سردار طاہر انور ایڈووکیٹ (سابق وزیر)، سردار فرہاد علی خان ، سردار محمد ذاکر خان (ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن )اور د یگر زعماء نے کی جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے پیپلزپارٹی کی نمائندگی ہمراہ چوہدری محمد یسین (قائد حزب اختلاف )، الحاج سردار محمد یعقوب خان، سابق وزیر سردار عابد حسین عابد ، ضلعی صدر حافظ صغیر احمد ، سردار محمد سجاد خان، سردار آبشار کفائت ، سردار حمید افضل نے کی جبکہ اس موقع پر سردار محمد الطاف خان ( پی ٹی آئی)، سردار ساجد خورشید خان (صدر پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن ضلع پونچھ) جے کے پی پی کے رہنما سردار محمود اقبال خان (سابق امید وار حلقہ نمبر چار)،سردار رحیم اشرف (مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل )، مسلم کانفرنس کے زعماء سردار اظہر نذر خان، خواجہ جاوید ، سردار محمد ارشاد خان ،سردار محمد طاہر اکرم ایڈووکیٹ(سابق صدر ڈسٹرکٹ بار) سردار نیاز تبسم ،سابق امید وار اسمبلی حلقہ نمبر 3سردار محمد نذیر خان(مسلم کانفرنس)فاروق عبداللہ (کھائی گلہ) ماسٹر فاروق ، نوید حیات ، آزاد قریشی ، ٹھیکیدار سردار محمد سعید خان ، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر سردار سجاد انور خان، جماعت اسلامی کارپوریشن کے امیر سردار قیوم افسر خان،کمانڈر سردار فاروق خان (منگ) راجہ عزت بیگ ایڈووکیٹ، سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ ، سردار شریف ایڈووکیٹ ،راولاکوٹ کے وکلا ء کی ایک کثیر تعداد اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ زعماء بھی موجود تھے ۔سردار خالدابراہیم خان کے چھوٹے بھائی سردار فاروق ابراہیم خان ، سردار خالدابراہیم خان کے دونوں بیٹے سردار حسن ابراہیم خان سردار اسد ابراہیم خان تعزیتی ریفرنس میں موجود تھے ۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فارو ق حیدر خان نے کہا کہ ان کا سردار ابراہیم خان کے خاندان کے ساتھ ان کا سیاسی اور خاندانی تعلق تھا ۔1955میں جب سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں لوگوں کو ووٹ کا حق دلانے کی تحریک شروع کی گئی تو مظفر آباد سے میرے والد محترم راجہ حیدر خان نے اس تحریک میں سردار محمد ابراہیم خان کا بھرپور ساتھ دیا ۔انہوں نے کہا کہ سردار خالدابراہیم خان اگرچہ سیاسی معاملات میں بہت سخت تھے ایک مرتبہ جو فیصلہ کر لیتے اس کو تبدیل نہیں کرتے تھے ۔مگر عام حالات میں وہ انتہائی نرم دل انسان تھے ۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں عدالت عظمی کی خرابیاں دور کرنے کے حوالے سے انہوں نے ماضی میں جو اقدامات کیے تھے انہی کی وجہ سے انہیں وزارت عظمی چھوڑنی پڑی تھی جب تک آزادکشمیر میں توہین عدالت کا قانون موجود ہے اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے تاوقتہ کہ اس قانون کو تبدیل نہ کیاجائے انہوں نے کہا کہ آزادکشمیرکی عدالت العالیہ میں جو پانچ ججز تعینات کیے گئے تھے اس عمل میں نہ ہی میرا کوئی حصہ ہے اور نہ ہی میں نے کوئی سودے بازی کی ہے اگر مجھ پر سودے بازی ثابت ہوجائے تو جو سزا دی جائے گی مجھے قبول ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی کشمیر ی قائدین کی کوئی توہین نہ کی اور نہ وہ ایسا کرنے کا سوچ سکتے ہیں ان کشمیری قائدین کی قربانیوں کے نتیجہ میں یہ خطہ آزاد ہوا اور ہم آج اس پر حکمرانی کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب آزادکشمیر کے وزیراعظم اور ممبران کی تنخواہوں میں اضافہ کیاگیا تو میں خود سردار خالد ابراہیم خان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ سیاسی لوگ سفید پوش ہوتے ہیں اس وقت وزیراعظم آزادکشمیر کی تنخواہ 35ہزار جبکہ ہائی کورٹ کے ڈرائیور کی تنخواہ 60ہزار تھی انہوں نے کہا کہ ہم سب کو سردار خالدابراہیم خان جیسے کردار کا آدمی بننا پڑے گا وہ بہت بڑے نامور سیاست دان تھے ۔ان جیسا سیاستدان صدیوں پیدا نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جب 1996میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کو آزادکشمیر کا صدر بنانے کافیصلہ ہوا تو اس میں میرا بھی کردار ہے میں نے دیگر سرکردہ رہنماؤں کے ہمراہ اس وقت کے صدر پاکستان فاروق لغاری سے اس حوالے سے بات کی تھی جس کے گواہ سردار محمد ابراہیم خان کے قریبی عزیز اور حکومت آزادکشمیر کے (ر ) سیکرٹری سردارمحمد خورشید خان ہیں ۔اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یسین ، پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیرکے صدر چوہدری لطیف اکبر ، سابق صدر آزادکشمیر سردار محمد یعقوب خان ، وزیر حکومت ڈاکٹر نجیب نقی ، ممبر اسمبلی ملک نواز اور دیگر زعماء نے کہا کہ سردار خالد ابراہیم خان نے جو آواز بلند کی وہ ہمیشہ عوام کی بہتری کیلئے کی وہ سار ے کشمیر کے لیڈر تھے وہ پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی تھے وہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے محافظ تھے ۔وہ کشمیر یوں کی آواز تھے اب یہ آواز دب گئی ہے ۔وہ دوٹوک اور اصولی بات کرنے والے سیاست دان تھے خواہ جنرل پرویز مشرف وردی میں ہوں یا اور کوئی بڑا حکمران ہو سردار خالد ابراہیم خان نے ان کے سامنے ہمیشہ حق و سچ کی بات کی ہے وہ اقتدار کی سیاست نہیں کرتے تھے ۔اس تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ممبر کشمیر کونسل سردارمحمد سوار خان ، ممبر قانون ساز اسمبلی سردار محمد صغیر چغتائی ، جے کے ایل ایف کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ ، سردار شمشاد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات قانون ساز اسمبلی طے کرتی ہے اور قانون ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر قابل مواخذہ نہ ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر میں ججز کی تعیناتی کا اختیار قانون ساز اسمبلی کو د یاجائے اور پاکستان کی طرح جوڈیشل کمیشن قائم کیاجائے انہوں نے کہا کہ سردار خالد ابراہیم خان نے کوئی توہین عدالت نہیں کی تھی ان کا موقف تھا کہ آئین کی خلاف ورزی کر کے منظور نظر لوگوں کو اعلی عدلیہ میں بھرتی کیاگیا ہے ۔وہ لگائے گئے ججوں کے خلاف نہیں بلکہ طریقہ کار کے خلاف تھے ۔ان رہنماؤں نے کہاکہ آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں توہین عدالت کے حوالے سے سردار خالدابراہیم خا ن کا ساتھ کسی نے نہیں دیا اگر چہ اسپیکر قانون ساز اسمبلی نے یہ رولنگ دی تھی کہ اسمبلی میں کسی ممبر کی جانب سے کی گئی تقریر پر نوٹس نہیں لیاجاسکتا اور نہ ہی توہین عدالت بنتی ہے اس کے باوجود جن ججز نے اپنی ذاتی انا کی خاطر سردار خالدابراہیم خان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی انہوں نے مقننہ کی حیثیت کو چیلنج کیا اور اپنے آپ کو قانون ساز اسمبلی سے بالاتر ثابت کرنے کیلئے سردار خالدابراہیم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ان زعماء نے مطالبہ کیا کہ ان ججز کے خلاف فوری طور پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور حق وسچ کی بات کرنے والے کے خلاف توہین عدالت کی غیر قانونی کاروائی شروع کرنے کی پاداش میں ریفرنس بھیجا جائے اور ان کو موجودہ عہدوں سے الگ کیاجائے ۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ جب مارچ 2013میں آزادکشمیر میں چار ججز تعینات ہوئے تھے تو اس وقت موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے پریس کانفرنس کر کے اور متعدد جلسوں میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ججز 2,2کروڑ روپے دے کر لگے ہیں اس وقت ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی نہیں کی گئی مگر سردار خالدابراہیم خان نے جب حق وسچ کی بات کی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کر کے دوہر ا معیار کیوں اختیا ر کیاگیا ان زعماء اور دیگر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر سے توہین عدالت کا قانون فی الفور ختم کیا جائے اور اس قانو ن کو غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ اس تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر تقریب سردار جاوید ابراہیم نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ریفرنس کی تقریب کا اختتام مولانا سعید احمد کی دعا سے ہوا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here