انتظامیہ اور حکومتی نمائندگان کی یقین دہانیوں کے باوجود گرلز کالج اپر کوئیاں /کھائی گلہ کے مسائل حل نہ ہو سکے

0
278

راولاکوٹ (بیورو رپورٹ ) انتظامیہ اور حکومتی نمائندگان کی یقین دہانیوں کے باوجود گرلز کالج اپر کوئیاں /کھائی گلہ کے مسائل حل نہ ہو سکے ٗ سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے بجائے مزید تبادلے ٗ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت گرلز کالج کو بند کرنے کی سازش کی جارہی ہے ٗ حکومت اور انتظامیہ کو 22نومبر کی ڈیڈ لائن ٗ مسائل حل نہ ہو ئے تو نہ پہیہ چلے گا نہ شٹرکھلے گا ٗ تمام یوتھ کمیٹیوں ٗ تاجران او ر عوام علاقہ سے ایک بڑے اور بامقصد دھرنے کیلئے 16 نومبر کو مشاورتی اجلاس طلب ٗ ہم کسی صورت اپنی بچیوں کا مستقبل تاریک نہیں ہونے دیں گے ٗعوام علاقہ خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر ایک بامقصد دھرنے کیلئے تیار کر لیں ٗ جب تک مسائل حل نہیں ہونگے احتجاج جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز اصلاحی کمیٹی کوئیاں اور یوتھ ویلفیئر کمیٹی کوئیاں کے مشترکہ اجلاس میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی صدارت صدر اصلاحی کمیٹی سردار صابر کشمیری ایڈووکیٹ نے کی جبکہ اصلاحی کمیٹی کی مجلس عامہ اور یوتھ ویلفیئر کمیٹی کوئیاں کے نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گرلز کالج اپر کوئیاں میں سٹاف کی کمی ایک سنگین صورت الحال اختیار کر گئی ہے بار بار کے احتجاج ٗ انتظامیہ اور حکومتی نمائندگان کی یقین دہانیوں کے باوجود سٹاف کی کمی کو پورا نہیں کیا گیا بلکہ اس پر ستم یہ ہوا کہ پہلے سے موجود دو ٹیچر میں سے ایک کا پھر تبادلہ کر دیا گیا۔ جبکہ اس کی جگہ آنے والی ٹیچر نے ابھی تک حاضری نہیں دی ۔ اجلاس میں مقررین نے پرنسپل کالج ہذا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ پرنسپل کی یہ ذمہ داری ہے کہ جب تک متبادل ٹیچر جوائنگ نہ دیں وہ پہلی والی ٹیچر کو ریلیز نہیں کر سکتی تاہم انہوں نے بھی اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کیا جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کالج ہذا کی تباہی میں پرنسپل ادارہ ہذا کا بھی ہاتھ ہے۔ مقررین نے کہا کہ سٹاف کی کمی اور پوسٹوں کی تبدیلیوں کے باعث والدین سخت پریشانی میں مبتلا ہیں ٗ بچیوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے ۔ پانچ یونین کونسلوں پر مشترکہ مرکز کھائی گلہ کے واحد گرلز کالج کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تباہ کیا جارہا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں مگر جب ہماری بچیوں کے مستقبل کو تاریک کرنے اور ہمارے ادارے کو تباہ کرنے کی سازش کی جائے گی ہم کسی صورت خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے حق کے حصول کیلئے سڑکوں پر نکلیں گے اور پھر انجام کی پروا نہیں کریں گے ۔مقررین نے 22نومبر کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 22نومبر سے قبل ہمارے مطالبات پر غور نہیں کیا گیا تو 22نومبر کے بعد اُس وقت تک احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جبکہ حکومتی نوٹیفیکشن کی صورت میں ہمارے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے۔اس دوران کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقع کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت پر عائد ہوگی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here